Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


عزم کے لیے بُلاہٹ

CALL TO COMMITMENT
(Urdu)

بلی گراھم کی جانب سے، 1960
by Billy Graham, 1960

1917 میں لینن نے صرف 40,000 آدمیوں کے ساتھ روس پر حملہ کیا۔ چند سالوں میں کمیونسٹوں نے ایک ارب سے زیادہ لوگوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ انہوں نے دنیا کے ہر حصے پر حملہ کیا۔ انہوں نے مسیحی کلیسیا اور آزاد دنیا کو اس طرح چیلنج کیا جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔

جب کمیونسٹ فوجیں داخل ہوئیں تو اُن کی قیادت ایک امریکی تربیت یافتہ لیفٹیننٹ کر رہے تھے۔ اُس وقت مشنری ڈک ہلیس چین میں تھے۔ ہلیس نے لیفٹیننٹ سے کہا، ’’آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ آج رات شہر پر قبضہ کرنے جا رہے ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ ان کے پاس آپ سے 10 گنا زیادہ فوج ہے اور آپ کو اس دریا کو عبور کرنا ہے اور دشمن کی ان بندوقوں کا سامنا کرنا ہے جو آپ کی بندوقوں سے زیادہ مہلک ہیں؟

کمیونسٹ لیفٹیننٹ نے جواب دیا، ’’کمیونزم ایک میل اور آگے بڑھ سکتا ہے [یہ سوچ کر ہی] میں خوشی سے مر جاؤں گا۔‘‘

کیا آپ ایسی ہی لگن یسوع مسیح کے لیے بھی کریں گے؟ اُس نے آپ کے لیے [کچھ] کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور وہ آپ سے اتنے زیادہ کا تقاضا بھی نہیں کرتا۔

پرانے اور نئے عہد ناموں کو پڑھیں اور ان مطالبات کو دیکھیں جو خدا نے اپنے بندوں سے کیے ہیں۔

ابراہیم کو دیکھیں۔ ’’ابراہام، تیرا دعویٰ ہے کہ تو خدا پر یقین رکھتا ہے۔ کیا تو واقعی مجھ پر یقین رکھتا ہے؟ ٹھیک ہے، تیرا ایک لڑکا ہے، سارہ کا اکلوتا بیٹا، تمہارے بڑھاپے میں پیدا ہوا، وہ لڑکا جو تمہارا وارث ہوگا۔ میں چاہتا ہوں کہ تم اس لڑکے کو، اپنے اکلوتے بیٹے کو موریاہ پہاڑ پر لے جاؤ، اور میں چاہتا ہوں کہ تم اسے میرے لیے قربان کر دو‘‘ (حوالہ دیکھیں، پیدائش 12: 1-2)۔

یہ [حوالہ] ایک بار بھی نہیں کہتا کہ ابراہیم نے خدا کے ساتھ بحث کی۔ ابراہیم نے اپنا گدھا لیا، اس پر لکڑی ڈالی، اسحاق کو لیا اور تین دن کا سفر طے کیا۔ جب وہ موریاہ پہنچے تو اس نے قربان گاہ تیار کی، اسحاق کو باندھا اور اسے لکڑی پر جُھکا دیا۔ اس نے غیرمشروط فرمانبرداری میں چھری نکالی کیونکہ اسے خدا پر کامل بھروسہ تھا۔ کامل اطاعت اور ایمان میں اس نے چھری اٹھائی۔ تب خدا نے کہا، ’’ابراہام، میں دیکھ رہا ہوں کہ تو مجھ پر یقین رکھتا ہے۔ یہ دیکھ کر کہ تو نے مجھ سے اپنے اکلوتے بیٹے کا بھی دریغ نہ کیا میں اب جان گیا ہوں کہ تو خدا سے ڈرتا ہے‘‘ (حوالہ دیکھیں، پیدائش 22: 12)۔

خدا سب سے تقاضا کرتا ہے۔ کچھ کم نہیں۔

قدیم مصر کی تمام حکمت اور علم میں مستقبل کا فرعون بننے کی موسیٰ کو تربیت دی جا رہی تھی۔ ’’جب موسیٰ بوڑھا ہو گیا تو اُس نے ایمان کے وسیلے سے فرعون کی بیٹی کا بیٹا کہلانے سے انکار کر دیا، گناہ کی گزری ہوئی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے خدا کے لوگوں کے ساتھ دکھ جھیلنا پسند کیا، مسیح کی ملامت کو مصر میں خزانوں سے بڑی دولت سمجھا؛ کیونکہ اس نے انعام کی طرف دیکھا۔ بادشاہ کے غضب سے نہ ڈر کر اُس نے ایمان کے وسیلے سے مصر کو چھوڑ دیا۔ کیونکہ اُس نے اُس کو دیکھ کر صبر کیا جو پوشیدہ ہے‘‘ (عبرانیوں 11: 24-27)۔ کبھی کبھی آپ کو بھی اپنی زندگی میں انتخاب کرنے کی ضرورت پڑے گی، اور اس کے لیے آپ کی ہر چیز کی قیمت لگ سکتی ہے۔

جب دانیال شیروں کی ماند میں داخل ہوا تو وہ نہیں جانتا تھا کہ آیا خدا کی مرضی تھی کہ اسے بچایا جائے۔ لیکن اپنے یقین اور خُدا پر اپنے ایمان سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے، وہ جانے اور اپنے اعضاء کے چیتھڑے چیتھڑے کروانے کے لیے تیار تھا۔ دانیال، عہد نامہ قدیم کے عظیم ترین لوگوں میں سے ایک، تمام دنیا کی عظیم ترین سلطنت کا کئی سالوں تک وزیر اعظم، شیروں کی ماند میں چلا گیا کیونکہ وہ خدا پر اپنے ایمان سے انکار نہیں کرے گا۔

ترسس کے ساؤل نے ایک دن کہا، ’’خداوند، تو مجھ سے کیا کروانا چاہتا ہے؟‘‘

خُدا نے کہا، ’’میں اُسے دکھاؤں گا کہ اُسے میرے نام کی خاطر کتنی مصیبتیں جھیلنی پڑیں گی‘‘ (اعمال 9: 16)۔

برسوں بعد پولوس نے اس کا خلاصہ کیا: ’’مجھے پانچ مرتبہ یہودیوں کے ہاتھوں انتالیس کوڑے مارے ہیں۔‘‘ ( چمڑے کے لمبے دُرّہ کے سرے پر سٹیل کے بندھے ہوئے چھوٹے چھوٹے گولوں والے کوڑے سے پانچ بار انہوں نے پیٹھ پر انتالیس اُنتالیس کوڑے مارے تھے، یہاں تک کہ وہ زخموں سے پھٹ گئی اور میں لہولہان ہو گیا۔) ’’مجھے تین بار سلاخوں سے مارا گیا ہے۔ مجھے ایک بار سنگسار کیا گیا ہے۔ میرا تین بار [بحری] جہاز تباہ ہو چکا ہے۔ مجھے کھلے سمندر میں چوبیس گھنٹے بہنا پڑا ہے۔

’’اپنے سفر میں مجھے دریاؤں اور سیلابوں سے، ڈاکوؤں سے، اپنے ہی ہم وطنوں سے اور کافروں سے مسلسل خطرہ رہا ہے۔ میں نے شہر کی گلیوں میں خطرے کا سامنا کیا ہے، صحرا میں خطرہ، بلند سمندروں پر خطرہ، جھوٹے مسیحیوں کے درمیان خطرہ۔ میں تھکن، درد، نیند کے بغیر رہنے، بھوک اور پیاس، بغیر کھائے سفر جاری رکھنے، سردی اور لباس کی کمی کو جان چکا ہوں‘‘ (2 کرنتھیوں 11: 24-27، فلپس)۔

پھر بھی پولوس نے لکھا کہ اس دُنیا کے مصائب ’’اُس جلال کے ساتھ موازنہ کرنے کے لائق نہیں ہیں جو ہم پر ظاہر ہوگا‘‘ (رومیوں 8: 18)۔ مسیح سب سے تقاضا کرتا ہے۔

ایک جم غفیر یسوع کی پیروی میں تھا۔ اُنہوں نے کہا ’’کیا وہ کمال کا نہیں ہے!‘‘ یسوع نے نابیناؤں کا بینا کیا، بہروں کو سننے کے لائق بنایا، گونگوں کو گویائی دی، لنگڑوں کو چلنا کے قابل کیا اور مردوں کو زندہ کیا۔ اس نے 5000 لوگوں کا پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں سے پیٹ بھرا۔

لیکن جب انہوں نے اپنی رضامندی کا اظہار کیا تو یسوع نے مڑ کر اپنے شاگردوں سے کہا، ’’اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہتا ہے تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خودی کا انکار کرے، اور اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے‘‘ (متی 16: 24)۔ یسوع نے کہا، ’’میں مصلوب ہونے جا رہا ہوں۔ جب تک تم میرے ساتھ اس صلیب پر جانے کے لیے تیار نہ ہو، تم میرے پیروکار نہیں ہو سکتے۔

بائبل کہتی ہے کہ یسوع مسیح کا سچا پیروکار بننے کے لیے آپ کو اپنی خودی کا انکار کرنا چاہیے یعنی جسم، فطری انسان۔ خودی کی زندگی خود اپنے آپ کی خود حماقتی کو عیاں کرتی ہے، خود محبتی، خود کی مرضی، خودی کی تلاش، خود پر فخر کرنے کو عیاں کرتی ہے۔

مختلف لوگوں کے لیے اس کا مطلب مختلف باتیں ہیں۔ ایک شخص کے لیے ذات یا خودی عقلی فخر ہو سکتا ہے۔ دوسرے کے لیے یہ خوشی کی بات ہو سکتی ہے۔ دوسرے کے لیے، کاروبار یا خاندان مسیح سے پہلے ہو سکتا ہے۔ ذات یا خودی کے انکار کا مطلب ہے خود کو ترک کرنا اور مسیح کو آقا کے طور پر قبول کرنا، خود غرضانہ زندگی بسر کرنا چھوڑ دینا ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کی دولت، اس کی تفریحات، اس کی لذتوں، اس کی طاقتوں، اس کی عزتوں کے لیے مر جاتے ہیں۔ زندگی کا واحد مقصد یہ ہوگا کہ مسیح کو ہماری زندگیوں میں عزت اور جلال دیا جائے۔

کیا آپ کی زندگی میں ایسا ہوا ہے؟ کیا آپ نے ایسا اٹل عزم یا عہد کیا ہے؟

اس کی دوسری شرط صلیب اٹھانا ہے۔ لیکن وہ صلیب کیا ہے؟ یہ سونے، ہاتھی دانت یا چاندی کی صلیب نہیں ہے۔ یہ گناہ کی سزا کی صلیب نہیں ہے۔ صرف مسیح ہی ہمارے گناہوں کی ادائیگی کر سکتا ہے۔ یہ غربت یا بیماری نہیں ہے۔ یہ پریشانی، غم یا مایوسی نہیں ہے۔

جب مسیح نے کہا، ’’صلیب اٹھاؤ،‘‘ لوگ چونک گئے۔ وہ حیران رہ گئے۔ اس کا کیا مطلب تھا؟ صلیب پھانسی کا ایک آلہ تھا۔ یہ بالکل ایسا ہی کہنا تھا، ’’پھانسی کا چوکٹھا اٹھاؤ۔ برقی کرسی اٹھاؤ اور میرے پیچھے چلو۔ مجھے سزائے موت دی جائے گی۔ میرے ساتھ سزائے موت کی جگہ تک آؤ اور میرے ساتھ موت کی سزا پاؤ۔ میرے دکھ میں اپنے آپ کو میرے ساتھ پہچانو۔‘‘

صلیب اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ خُداوند یسوع کے لیے اپنا موقف اختیار کریں، چاہے اس کی کوئی قیمت ہی کیوں نہ چُکانی ہو۔ اس کا مطلب ہے خود کی مصلوبیت — آپ کی مقبولیت، پہچان یا کامیابی کی تمام خواہشات۔

اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ دنیا کے گھٹیا بندے بن جاؤ۔ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ٹھکرائے ہوئے بن گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ دنیا کے لیے تماشا بن جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ دنیا کے لیے بے وقوف بن جائیں۔

یسوع نے اپنے شاگردوں کو خبردار کیا، ’’نوکر اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا‘۔ اگر انہوں نے مجھے ستایا ہے تو وہ تمہیں بھی ستائیں گے‘‘ (یوحنا 15: 20)۔ جیسا کہ آپ اپنے آپ کو مسیح کے ساتھ پہچانتے ہیں، آپ دنیا کی طرف سے اُس کے مسترد کیے جانے میں بھی شریک ہوں گے۔

یہ سب کچھ معاملہ آپ رضاکارانہ انتخاب کے طور پر کرتے ہیں۔ یہ آپ کی صلیب ہے کیونکہ آپ خود انکاری کے اس بحران میں اسے اٹھانے کا انتخاب کرتے ہیں۔ کیا آپ اپنی صلیب اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟

’’میں اپنی صلیب کیسے اٹھاؤں؟‘‘ آپ پوچھتے ہیں۔ راز یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کو بغیر کسی شک و شبہ کے مسیح کے لیے وقف کر دیں۔ اسے اول مقام پر رکھیں۔

اپنی زندگی کے تمام احاطوں کی ایک فہرست بنائیں اور کہیں، اے خداوند، تیرے فضل سے میں اپنے آپ کو گناہ کی وجہ سے مردہ سمجھتا ہوں۔ میں ان چیزوں کو صلیب پر کیلوں سے جڑتا ہوں، میں تیرے ساتھ صلیب پر اپنے آپ کو پہچانتا ہوں۔‘‘ یہی مطلب کلام پاک کا ہوتا ہے جب یہ کہتا ہے، ’’لیکن اگر تم گناہ آلودہ فطرت کے مطابق زندگی گزارو گے تو ضرور مرو گے لیکن اگر روح کے ذریعے بُرے کاموں کو نابود کرو گے تو زندہ رہو گے‘‘ (رومیوں 8: 13)۔

آج، اپنے آپ کو مکمل طور پر اور غیر مشروط طور پر یسوع مسیح کے حوالے کر دیں۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔